Top Ad 728x90

Mohenjo Daro History in Urdu and Video Documentary

In this article you can read mohenjo daro history in urdu language. Hope you must like this article. موحینجو داڑو کی تاریخ اُردو میں پڑھیں

Mohejno Daro History in Urdu:

:موحینجو داڑو کی تاریخ اُردو میں پڑھیں

:دریافت اور جگہ

موحینجو دارو وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا. یہ لاڑکانہ سے 20 کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقعہ ہے. یہ وادی سندھ كے ایک اور اہم مرکز سے 400 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم واجوحات کی بنا پر ختم ہو گیا. تاہم ماہرین كے خیال میں دریاے سندھ كے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ 
اہم واجوحات ہو سکتی ہیں
محینجو ڈارو کو 1922 میں برٹش ایکسپرٹ آثار قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا اور ان کی کار آج بھی محینجو ڈرو كے عجائب کھانے کی زینت ہے۔ لیکن ایک مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو اِس تاثر کو غلط سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے كے اسے ہندوستان كے ماہر اثر قدیمہ آرکے بھاندر نے 1911 میں دریافت کیا تھا
موھینجو ڈارو کونزرویشن سیل كے سابق ڈائریکٹرحاکيم شاہ بخاری کا کہنا ہے كہ " آرکے بھاندر نے بودیزام كے مقدس مقام کی حیثیت سے اِس محینجو ڈارو کی تاریخی حیثیت کی جانب مبذول کارروائی ، جس كے لگ بھاگ ایک عشرے بعد سر جان مارشل یہاں آئے اور انہوں نے اِس جگہ خدائی شروع کارروائی
محینجو ڈرو سندھی زُبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’مردوں کا ٹیلا‘ ہے. یہ شہر بڑی ترتیب سے بنا ہوا تھا. اِس شہر کی اسٹزیٹ کھلی اور سیدھی تھیں اور پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام تھا. اندازاً اِس میں 35000 كے قریب لوگ ریھایش پزیر تھے. ایکسپرٹ كے مطابق یہ شہر 7 مرتبہ اجڑا اور دوبارہ بسایا گیا جس کی اہم وجہ دریا سندھ کا سیلاب تھا
یہ شہر یونائیٹڈ نیشنز كے اداراہ برائے تعلیم سائنس اور ثقافت ’ینیسکو‘ کی جانب سے علمی ورثہ قرار دیئے گئے مقامات میں شامل ہے۔


mohenjo daro history in urdu,
Mohenjo Daro History in Urdu

:صفائی ستھراي اور نہانے کی جگہ

محینجو ڈأرو كے لوگ بہت صفائی پسند تھے جیسا کے انکی آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے. ان تہذیب میں ایک بہت بڑی نہانے کی جگہ بی تھی جسے آج لوگ گریٹ باتھ آف محینجو ڈرو کے نام سے بھی جانتے ہیں. وہ شاید انکا کوئی مذہبی تہوار منانے کے لیے بی استعمال کیا جاتا رہا ہو گا. اسکی لمبائی تقریباً 12 میٹر شامال جنوب ، 7 میٹر چوڑا اور 2.4 میٹر گہرا تھا

:بادشاہت کا نظام

کچھ چیزوں سے ثابت ہوتا ہے کے یہاں بادشاہَت کا نظام نہیں تھا بلکہ کمیٹی ایک ممبر چنتی تھی

:تباہی کے اسباب

:اسکی تباہی کی یہ وجوہات بتائی جاتی ہیں
 (تابکاری شعاعیں ( جو کے انسانی جسم میں پائی گئی 
 بےرونی حملہ آور
 خوفناک سیلاب
 زلزلے
This article is written in urdu at the topic of mohenjo daro history in urdu so we write in urdu language. If you want to read in english language than you can check by clicking here mohenjo daro history in english. If you have any suggations or you want to update our this post written on mohenjo daro history in urdu than you can comment at this post or also can contact through email as written in contact us page. 


0 comments:

Post a Comment

Top Ad 728x90